اماراتی ریاست ابوظبی نے نیا رہائشی ویزہ یا پرانے ویزے کی مُدت میں تجدید کروانے والوں پر ایک اہم شرط عائد کر دی ہے

اماراتی ریاست ابوظبی نے نیا رہائشی ویزہ حاصل کرنے والوں یا پرانے ویزے کی مُدت میں تجدید کروانے والوں پر ایک اہم شرط عائد کر دی ہے جس کے مطابق ویزہ اپلائی کرنے والوں کو میڈیکل ٹیسٹ کروانے سے پہلے کورونا پی سی آر ٹیسٹ کی نیگیٹو رپورٹ حاصل کرنا ہوگی۔ ابوظبی ہیلتھ سروسز کمپنی (SEHA) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ نئی شرط گزشتہ روز 7 جون سے لاگو کر دی گئی ہے۔ SEHA کی ایمبولیٹری ہیلتھ کئر سروسز کی جانب سے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر بتایا گیا ہے کہ کہ نیا ویزہ حاصل کرنے یا پرانے ویزے کی تجدید کروانے کے خواہش مند افراد کو میڈیکل ٹیسٹ سے پہلے پی سی آر ٹیسٹ کی نیگیٹو رپورٹ کا رزلٹ الحوسن ایپ پر 72 گھنٹوں کے اندر حاصل کرنا ہوگا۔

https://www.instagram.com/p/CPxyoXVpZfd/?utm_source=ig_embed&ig_rid=67dbf81c-ca5b-48de-b05a-ff85fad6e0be

ابوظبی کے رہائشیوں کو وبا سے محفوظ تر رکھنے کی خاطر حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ جو بھی افراد سرکاری دفاتر ، تقریبات یا دیگر سرکاری مقامات پر کسی کام سے جاتے ہیں، ان کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کروانا لازمی ہوگا۔ اس پابندی کا اطلاق ان وفاقی سرکاری ملازمین پر بھی ہو گا جنہوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی ہے۔ انہیں ہفتے میں ایک بار پی سی آر ٹیسٹ کروانا لازمی ہے۔ اسی طرح جو افراد دیگر ریاستوں سے ابوظبی آنا چاہتے ہیں انہیں پی سی آر ٹیسٹ کروا کر نیگیٹو رپورٹ حاصل کرنا ہوگی جس کوابوظبی میں داخل ہوتے وقت 48 گھنٹے سے زائد وقت نہ گزرا ہو۔ اگر کوئی شخص ڈی پی آئی ٹیسٹ کروا کر ابوظبی داخل ہونا چاہتا ہے تو اس کی نیگیٹو رپورٹ جاری ہوئے 24 گھنٹوں سے زائد وقت نہ گزرا ہو۔ تاہم مسلسل دو بار ڈی پی آئی ٹیسٹ کی رپورٹ پر داخلہ نہیں ہو سکے گا۔ پہلی بار ڈی پی آئی ٹیسٹ کروانے کے بعد دوسری بار پی سی آر ٹیسٹ کی رپورٹ پر ہی داخلہ ہو سکے گا۔

ابوظبی میں مقیم ہوٹلز، ریسٹورنٹس، تفریحی مقامات، ہیلتھ ورکرز، ٹور گائیڈز، ٹیکسی ڈرائیورز اور دیگر شعبوں کے افراد کو بھی وقتاً فوقتاً پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ جو والدین یا دیگر افراد سکولز کے احاطے میں جانا چاہتے ہیں انہیں بھی موقع پر پی سی آر ٹیسٹ کی نیگیٹو رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔ اسی طرح ٹیچرز اور انتظامی عملے کو بھی وقتاً فوقتاً پی سی آر ٹیسٹ کروا کر نیگیٹو رپورٹ حاصل کرنا ہوگی۔
Source: Khaleej Times

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!