دُبئی میں 17 کارکنان کی ہلاکت کے ذمہ دار بس ڈرائیور کی 7 سالہ سزا میں کمی، بس ایک سال سزا کاٹنا ہو گی

دُبئی کی عدالت نے 2019ء میں پیش آ نے والے ہولناک بس حادثے سے متعلق ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سنا دیا ہے جس کے تحت ملزم ڈرائیور کی سزا میں کمی کر دی گئی ہے۔ خلیج ٹائمز کے مطابق عدالت نے بس ڈرائیور کی سزا میں کمی کا فیصلہ دیا ہے جس کے بعد اس ڈرائیور کو اب صرف ایک سال سزا کاٹنی ہو گی۔ ابتدائی عدالت کی جانب سے ملزم کو 7 سال قید کی سزا دی گئی تھی، جس میں اب 6 سال کی کمی کر کے سزا ایک سال تک محدود کر دی گئی ہے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

2019ء میں ایک بس کو حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں بس میں سوار 17 غیر ملکی کارکنان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ حادثے کی شکار یہ بس ایک عمانی ڈرائیور چلا رہا تھا۔ دُبئی کی ابتدائی عدالت نے اس حادثے کا ذمہ دار عمانی ڈرائیور کو قرار دے کر اسے سات سال کی سزا دی تھی جو اب کم کر دی گئی ہے۔ تاہم ڈرائیور پر 50 ہزار درہم کا جرمانہ برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ حادثے میں مرنے والے 17 کارکنان کے لواحقین کو 34 لاکھ درہم بطور دیت بھی ادا کرے گا۔ ڈرائیور کی غفلت کی وجہ سے جون 2019ء میں بس میں سوار 17 افراد کی جانیں چلی گئی تھیں اور 13 کارکنان زخمی ہوئے تھے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

بس حادثے کے بعد تحقیقات سے ظاہر ہوا تھا کہ جب یہ حادثہ پیش آیا، اس وقت 55 سالہ عمانی ڈرائیور 94 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بس چلا رہا تھا۔ جو کہ اس روڈ پر مقرر کردہ حدِ رفتار سے دُگنی رفتار تھی۔ جس سے ثابت ہوا کہ یہ جان لیوا حادثہ تیز رفتاری کی وجہ سے ہی پیش آیا تھا۔ ڈرائیور کی اس تیز رفتار کے باعث بس بے قابو ہو کر پہلے وارننگ سائن سے ٹکرائی اور پھر لوہے کے بیریئر سے جا ٹکرائی۔ جس کے بعد فوری طور پر 15 کارکنان ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ 2 بعد میں ہسپتال جا کر دم توڑ گئے تھے۔
Source: Khaleej Times

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!