دُبئی میں متعدد مقامات پر اپارٹمنٹس کے کرائے کم ہو گئے، رہائش بدلنے کا یہ سنہری موقع ہے

دُبئی میں سال 2021ء کے دوران اپارٹمنٹس کے کرایوں میں کمی ہوتی رہے گی تاکہ کچھ پوش علاقوں میں بنے شاندار اپارٹمنٹس کے کرایوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جن میں کچھ عرصہ پہلے کمی ہو گئی تھی۔ دُبئی میں ایک طرف ولاز کے کرایوں میں 4.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب اوسط درجے کے اپارٹمنٹس کے کرائے پچھلے 14ماہ کے دوران 10.3 فیصد تک کم ہو گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دُبئی کے 17 فیصد پراپرٹی یونٹس خالی پڑے ہیں جس کی وجہ سے کرائے داروں کے پاس اچھی اور مرضی کی جگہ پر سستی رہائش گاہیں حاصل کرنے کا اچھا موقع ہے۔

Asteco کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایچ پی آئینگر کا کہنا ہے کہ کچھ علاقوں میں اگرچہ کرائے بڑھ رہے ہیں تاہم زیادہ تر علاقوں میں لینڈ لارڈز لوگوں کو کرایوں میں اچھی خاصی رعایت دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ کرایہ بارہ چیکس کی اقساط کی صورت میں بھی دینے کی آفرز دی جا رہی ہیں اور کچھ مالک اپنے کرایہ داروں کو خوش رکھنے کے لیے انہیں ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے رقم کی ادائیگی کی بھی سہولت دے رہے ہیں اور کچھ نے ایجنسی فیس بھی معاف کر دی ہے۔ تاہم اگر مستقبل میں رہائشی یونٹس کی طلب میں اضافہ ہو گیا تو کرایوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ Asteco کے مطابق اس وقت تقریباً 30 ہزار اپارٹمنٹس اور 5 ہزار ولاز کرایہ داروں کے انتظار میں خالی پڑے ہیں۔ جنوری سے مئی کے دوران الجدف، بلیو واٹرز آئی لینڈ، ٹریڈ سنٹر، دی گرینز، برشا ہائیٹس اور جمیرہ لیک ٹاورز (JLT) کے کرایوں میں بے حد کمی ہو گئی ہے۔

تاہم دُبئی کے ولاز کمیونٹیز یریا ز میں کرائے بڑھ رہے ہیں جن میں دُبئی ہلز اسٹیٹ اور وصل گیٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ DIFC، ڈاؤن ٹاؤن دُبئی، پام جمیرہ، بزنس بے اور دُبئی میرینا / JBR میں بھی کرایوں میں بھی آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ڈسٹرکٹ ون، ایمریٹس ہلز، دی لیکس، ایم بی آر سٹی، دُبئی ہلز اسٹیٹ اور جمیرہ گالف اسٹیٹ، دی سپرنگز، دی میڈوز، عریبین رانچز بھی انہی علاقوں میں شامل ہیں جہاں کرائے بڑھ رہے ہیں۔جبکہ جمیرہ ولا سرکل اور دُبئی لینڈ کے ولا سرکل میں کرایوں میں کمی آ رہی ہے۔ اگر مستقبل میں دُبئی کی معیشت تیزی سے بحال ہو بھی گئی تو بھی کرایوں میں تیزی سے اضافہ نہیں ہو گا اور فی الحال اپارٹمنٹس کم کرائے پر دستیاب ہیں۔

Source: Khaleej Times

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!