دُبئی میں کم سن لڑکی باتھ ٹب کے ڈرین پائپ میں بازو پھنسا بیٹھی، پھر کیا ہوا؟ جانیے

دُبئی پولیس نے بڑی مصیبت میں گھری ایک کم سن لڑکی کا مسئلہ حل کر دیا ہے جو باتھ ٹب کے ڈرین پائپ میں پھنسے بلی کے بچے کو نکالنے کے چکر میں اپنا بازو بھی بُری طرح پھنسا بیٹھی تھی۔ دُبئی پولیس کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسپورٹ اینڈ ریسکیو کے لینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ 16 سالہ لڑکی الخوانیج میں اپنے والدین کے ساتھ مقیم ہے۔ وقوعہ کے وقت وہ باتھ روم میں تھی جس کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ اس لڑکی کی بلی کا بچہ باتھ ٹب کے ڈرین پائپ میں پھنس گیا تھا جسے نکالنے کے دوران وہ خود بھی اپنا بازو اس پائپ میں پھنسا بیٹھی۔ اس لڑکی کو تکلیف اور مصیبت سے نجات دلانے کے لیے لینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم نے خصوصی اوزاروں کے ذریعے باتھ روم کا بند دروازہ کھولا اور پھر لڑکی کو ریسکیو کیا۔

لڑکی کے والدین کی جانب سے ایمرجنسی کال موصول ہونے کے بعد پولیس افسر لیفٹیننٹ عبداللہ النعیمی ایک اور افسر کے ساتھ اس ولا پر گئے اور باتھ روم کا دروازہ اوزاروں سے کھولا تو دیکھا کہ لڑکی کا بازو باتھ ٹب کے قریب ڈرین پائپ میں پھنسا ہوا تھا۔ یہ لڑکی اپنی بلی کے بچے کو تلاش کر رہی تھی جس دوران اس کا اپنا بازو بھی پھنس گیا تھا۔ لڑکی نے پائپ کے اندر دیکھنے کے لیے پہلے فون ٹارچ کا استعمال کیا ، مگر جب اسے کچھ نظر نہ آیا تو اس نے ڈرین پائپ میں اپنا ہاتھ داخل کیا، جو اس کے لیے بڑی مصیبت بن گیا اور اس کا بازو اندر ہی پھنس کر رہ گیا۔

لڑکی نے اس مشکل پر مدد کے لیے پُکارا مگرباتھ روم کا دروازہ بندہونے کی وجہ سے اس کے والدین کچھ نہ کر سکے اور انہوں نے دُبئی پولیس کو کال کی۔ لیفٹیننٹ النعیمی کے مطابق لڑکی کا بازو 8 سینٹی میٹر چوڑے پائپ میں پھنسا ہوا تھا ۔ جس کی مدد کے لیے انہوں نے لڑکی اور بلی کے بچے کو نقصان پہنچانے بغیر بڑی مہارت سے باتھ ٹب پیچھے کیا اور جس کے بعد لڑکی کا بازو باہر نکل آیا۔ اس ساری کارروائی میں صرف 10 منٹ لگے اور لڑکی اور بلی کے بچے کو اس دوران کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ایک اور الگ واقعے میں پولیس نے ایک بچے کو بھی ریسکیو کیا جو پام جمیرہ کے ایک سوئمنگ پول کی سیڑھی میں پھنس کر رہ گیا تھا۔ ایمرجنسی کال موصول ہوتے ہی پولیس ٹیم ریکارڈ ٹائم میں وہاں پہنچی اور بچے کو فوری ریسکیو کیا۔ دُبئی پولیس کے مطابق اس سال 55 بچوں کو گھر پر ریسکیو کیا گیا جبکہ 4 بچے ایسے تھے جنہیں لفٹ میں پھنس جانے کے بعد ریسکیو کیا گیا تھا۔
Source: Gulf News

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!