متحدہ عرب امارات: ڈاکٹر جویریہ حسین گولڈن ویزا حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی ڈاکٹر بن گئیں

ڈاکٹر جویریہ حسین کو بحران کے دنوں میں مثالی کام کرنے پر اماراتی حکومت کی جانب سے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اماراتی حکام کی جانب سے پاکستانی ڈاکٹر کو کورونا کے مریضوں کی دن رات خدمت کے اعتراف میں گولڈن ویزا جاری کیا گیا ہے۔ ابوظہبی ہیلتھ کیئر سروسز میں انٹنسو کیئر فزیشن ڈاکٹر جویریہ حسین نے مملکت میں آنے کے صرف تین سال بعد گولڈن ویزا حاصل کرلیا ہے۔ وہ گزشتہ سال کورونا بحران آنے کے بعد رضاکارانہ طور پر مریضوں کا علاج کرنے والے پہلے ڈاکٹروں میں شامل تھیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ کورونا مریضوں کی سکریننگ کرنے والوں میں شامل تھیں اور ویکسی نیشن ٹرائل کا بھی حصہ رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سیہا کے ابوظہبی، دبئی اور شارجہ کے ویکسی نیشن سنٹرز پر کام کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر جویریہ رواں سال جنوری میں کورونا کاشکار ہوگئیں تھیں۔ لیکن صحتیاب ہونے بعد انہوں نے بھر سے ابوظہبی کے مفراق ہسپتال میں آئی سی یو فزیشن کے طور پر فرائض ادا کرنا شروع کردیے۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ 2018 میں شادی کے بعد دبئی منتقل ہوئیں۔ انہوں نے 2014 میں پاکستان سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور تین سال تک گورنمنٹ سیکٹر میں ملازمت کرتی رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سپیشلائزیشن کی تعلیم شروع کی لیکن شادی اور دبئی منتقل ہونے کی وجہ سے اسے مکمل نہ کرسکیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے گزشتہ سال مئی میں فرنٹ لائن ورکر کے طور پر کام شروع کیا۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے تین سالہ بیٹے اور خاوند کے ساتھ لمبے عرصے تک نہیں رہ سکیں تھیں۔ ‘میں ہوٹلز میں رہ رہی تھی اور ان سے صرف خاص تہواروں اور ویک اینڈ پر ہی مل پاتی تھی۔’ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ سال عیدالفطر، نئے سال، عیدالاضحیٰ سمیت ہر چھٹی پر کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس سال بھی انہیں لگ رہا ہے کہ انہیں عیدالاضحیٰ پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ دکھی انسانیت کی خدمت کرنا ان کا پیشہ ہے۔ اور انہوں نے صرف اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔

اس کےساتھ ان کی اس محنت میں ان کے اہلخانہ نے بھی ان کی بھرپور مدد کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحران کے شروعاتی دنوں میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وائرس کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں تھیں۔ جس کی وجہ سے مریض اور ڈاکٹر دونوں ذہنی پریشانی کا شکار رہتے تھے۔ اس دوران ڈاکٹروں کو 12 سے 13 گھنٹے تک لگاتار ڈیوٹی کرنا پڑتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر نے انہیں ہر جگہ سپورٹ کیا اور وہ ان افراد میں شامل تھے جنہوں نے ان کے گولڈن ویزا کے لیے اپلائی کیا۔ جس کے بعد انہیں ادارے کی جانب سے کال موصول ہوئی اور انہیں گولڈن ویزا جاری کرنے کی خوشخبری سنادی گئی۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!