متحدہ عرب امارات میں کن جرائم پر ڈی پورٹ کیا جاتا ہے؟

متحدہ عرب امارت میں جو تارکین منشیات کی اسمگلنگ اور خرید و فرخت، جنسی زیادتی و جنسی ہراسگی اور تشدد کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں، انہیں سزا ختم ہوتے ساتھ ہی امارات سے ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے۔ خلیج ٹائمز کے مطابق متحدہ عرب امارات میں دو طرح کی ڈیپورٹیشن ہوتی ہے جنہیں قانونی ڈیپورٹیشن (Legal Deportation) اور انتظامی ڈیپورٹیشن (Administrative Deportation) کہا جاتا ہے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

لیگل ڈیپورٹیشن تب کی جاتی ہے جب عدالت کی جانب سے کسی تارکِ وطن کو جرم میں ملوث ہونے کے باعث قید کی سزا دی جاتی ہے۔ امارت کے کریمنل کوڈ کی شق 121 کے مطابق جنسی حملوں میں ملوث افراد کی لازمی طور پر لیگل ڈیپورٹیشن کی جاتی ہے۔ عدالت کی جانب سے مجرم کو سزا کے فوراً بعد ڈی پورٹ کرنے کا حکم سُنایا جاتا ہے یا پھر قید کرنے کی بجائے سیدھا ڈی پورٹ کرنے کی سزا دی جاتی ہے۔
اگر کوئی غیر ملکی لیگل ڈیپورٹیشن کی سزا منسوخ کروانا چاہتا ہے تو وہ پبلک پراسکیوشن میں درخواست دے سکتا ہے۔ اپنی درخواست میں وہ ڈیپورٹیشن کی سزا ختم کرنے کے لیے وجوہات بتا سکتا ہے تاہم ثبوت کے طور دستاویزات بھی فراہم کرنا ہوتی ہیں۔ یہ درخواست ایک خصوصی کمیٹی کو بھیجی جاتی ہے جس کے پاس ملک بدری کے احکامات منسوخ یا برقرار رکھنے کا اختیار ہوتا ہے۔ دُبئی میں ڈیپورٹیشن کی سزا ختم کروانے کے لیے پبلک پراسیکیوشن کی ویب سائٹ پر آن لائن درخواست دی جا سکتی ہے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

ایڈمنسٹریٹو ڈیپورٹیشن یا انتظامی بنیادوں پر ملک بدری کے احکامات فیڈرل پبلک پراسیکیوٹر یا فیڈرل آئیڈنٹٹی اینڈ سٹیزن شپ اتھارٹی (ICA)کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں۔ انتظامی ڈیپورٹیشن تب ہوتی ہے جب کسی غیر ملکی کے ارادے یا حرکات عوامی مفاد اور تحفظ ،عوامی صحت اور اخلاقیات کے منافی ہوں۔

انتظامی ڈیپورٹیشن کے فیصلہ منسوخ کروانے کے لیے تمام اماراتی ریاستوں میں GDRFA کو درخواست دی جاتی ہے۔ اگر امارات میں مقیم کسی شخص کی آمدنی کے ذرائع مشکوک ہوں تو اس کے خلاف بھی انتظامی ڈیپورٹیشن کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اس کے زیر کفالت کُنبے کے افراد کو بھی امارات سے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔

اگر کسی غیر مُلکی کو ڈی پورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں، مگر اسے امارات میں کچھ ضروری معاملات نمٹانے ہیں تو پھر اسے ضمانت دے کر تین ماہ کی رعایتی مُدت کی مہلت دی جاتی ہے۔ اس رعایتی مُدت کے بعد مزید مہلت نہیں دی جاتی۔ واضح رہے کہ انتظامی بنیادوں پر ڈی پورٹ کیا جانے والا شخص امارات واپس نہیں آ سکتا، البتہ وزارت داخلہ کی خصوصی اجازت ملنے پر ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک درخواست دینا ہوتی ہے جس میں پُرانے رہائشی پرمٹس کی تفصیل، ڈی پورٹ کرنے کی وجوہات اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات بھی بیان کرنے ہوتے ہیں۔ مملکت میں دوبارہ داخلے کا جواز بھی لکھنا ہو گا، جس کے لیے دستاویزات اور ضروری ثبوت بھی مہیا کرنا ہوں گے۔

Source: Khaleej Times

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!