دُبئی میں ایک شخص کی انوکھی حرکت ، بھیڑیئے جیسا خوفناک جانور فروخت کرتے پکڑا گیا

دُبئی میں ایک شخص کوئی عام پالتو یا بے ضرر جانور نہیں، بلکہ بھیڑیئے جیسا خوفناک جانور فروخت کرنے کے دوران پکڑا گیا ہے۔ پولیس نے اس شخص کو پکڑنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا جس کے نتیجے میں آخر کار یہ پکڑا ہی گیا۔ جس کے بعد اسے متعلقہ اتھارٹی کے حوالے کر دیا گیا جو اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلوائے گی۔ دُبئی پولیس کے مطابق پکڑے گئے بھیڑیئے کو مناسب رہائش اور خوراک مہیا کرنے کے لیے دُبئی میونسپلٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس شخص کی گرفتاری دُبئی پولیس کے وائلڈ لائف، مٹ جانے کے خطرے سے دوچار جانوروں کی انواع کے خلاف جرائم سے متعلق قائم نئے شعبے کی کارکردگی کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ دی انوائرنمنٹل کرائم سیکشن کی جانب سے جانور کی غیر قانونی خریدو فروخت میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا اور نایاب نسل کے جانوروں پرندوں کو قید کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ یہ ڈیپارٹمنٹ دُبئی پولیس کے کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ خلیفہ المری کی ہدایات پر بنایا گیا ہے۔

دُبئی پولیس کے کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جمال الجلاف نے بتایا کہ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پبلک سیفٹی کو بڑھانے کے لیے خطرناک جانوروں اور معدوم ہونے کے خطرات سے دوچار جانوروں کی خرید و فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ہم اس مقصد کے لیے دُبئی پولیس میں ایک خصوصی سیکشن بنانا چاہتے تھے۔ ہم نے نوٹس کیا تھا کہ کچھ لوگ خطرناک جانوروں کو پال رہے ہیں، ان سے جانور پیدا کر رہے ہیں اور انہیں فروخت بھی کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ انہیں سوشل میڈیا پر شیخی مارنے کے لیے انہیں عوامی
مقامات پر بھی ساتھ لیے پھرتے ہیں۔ اس طرح کا رویہ لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال سکتا ہے اور اماراتی قانون کی سخت خلاف ورزی ہے۔

جبکہ دی انوائرنمنٹل کریمنل سیکشن کے ڈائریکٹر کرنل خلفان الجلاف نے کہا کہ یہ ڈیپارٹمنٹ اس وقت ابتدائی مراحل میں ہے تاہم اس نے اپنا پہلا کیس کامیابی سے نمٹا لیا ہے۔ اماراتی فیڈرل لاء کی شق نمبر 19 کے مطابق کوئی خطرناک جانور اپنے پاس رکھنا یا پالنا ایک قابل سزا جرم ہے۔ یہ جرم کرنے والے افراد کو قید اور جرمانے کی سزا ہوگا۔ اس جرم کا جرمانہ 5 ہزار سے 50 ہزار درہم کے درمیان ہوگا۔ اسی طرح کسی جانور کو عوامی مقام پر لا کر خوف و ہراس پھیلانے پر بھی ان سزاؤں اور جرمانوں کااطلاق ہوگا۔
Source: Gulf News

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!