متحدہ عرب امارات میں ڈپریشن کی شکار خاتون کو نئے طریقہ علاج نے زندگی کی نئی امید دلا دی

وہ روزمرہ زندگی کی سرگرمیوں میں دلچسپی کھو چکی تھی اور خود کشی کے خیالوں میں مبتلا تھی۔

تفصیلات کے مطابق ایک نئے اینٹی ڈپریشن طریقہ علاج نے نوجوان اماراتی خاتون کو زندگی کی جانب واپس لوٹنے کی امید دلائی ہے۔ اس سے قبل وہ شدید ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات میں اپنے بچپن سے ہی مبتلا رہتی تھیں۔ خاتون کی عمر 20 سال ہے اور وہ اس سے قبل بہت سی ادویات اور طریقہ علاج اپنا چکی ہیں۔ لیکن اس کا فائدہ نہیں ہوسکا۔ جس کی وجہ سے وہ زندگی کی سرگرمیوں میں دلچسپی کھو چکی تھیں اور خودکشی کے خیالات میں زندگی گزار رہی تھیں۔ تاہم اس کے بعد انہیں اسکیٹامائین استعمال کروائی گئی جو کہ ابوظہبی ہیلتھ سروس کمپنی کے تمام نفسیاتی کلینکس پر دستیاب ہے۔ جس کے بعد خاتون نے نوٹ کیا کہ انہیں خودکشی کے خیالات آنا کم ہوگئے ہیں اور وہ زندگی کی جانب فوکس کرنے لگی ہیں۔

مزید تفصیلات جاںيے۔۔۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی ادویات کام نہیں کررہی تھیں یا کم عرصے کے لیے کارآمد تھیں۔ پھر انہوں نے اس کیٹامائن کا استعمال کیا۔ جس سے ان کے مزاج میں بہتری نظر آئی اور وہ کم وقت کمرے میں تنہا رہنے لگیں۔ اور وہ سوسائٹی کا ایکٹو ممبر بننے کی خواہش کرنے لگیں۔ اس سے قبل بہت سے کام جیسا کہ تعلیم اور عبادت وہ ماضی میں کرتی رہی ہیں لیکن اپنے مزاج کی وجہ سے وہ یہ سب چھوڑ گئی تھیں۔ کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ یہ کام نہیں کرتیں۔ تاہم اب اس علاج کے بعد ان کا مزاج تبدیل ہونے لگا ہے۔ ‘میں انجوائے کررہی ہوں اور اپنی دلچسپی پر فوکس کررہی ہوں۔’ اس سے قبل ان کے پاس کوئی مقصد نہیں تھا۔ اس لیے ان کا وژن بھی واضح نہیں تھا۔ تاہم اب وہ گھر سے باہر چہل قدمی کے لیے بھی جاتی ہیں۔ اس سے قبل ایسا ممکن نہیں تھا۔ وہ کہیں خریداری کے لیے نہیں جاسکتی تھیں۔ کیونکہ رش میں جانے سے وہ خوف اور فرسٹریشن کا شکار ہوجاتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکیٹامائن علاج کروانے کی وجہ سے اب ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئی ہے اور اب ان کی زندگی کا مقصد بنتا جارہا ہے۔ وہ تین سال بعد دوبارہ سکول جانے لگی ہیں اور ان کی کمیونیکیشن سکلز کے ساتھ احساس ذمہ داری میں بھی بہتری آئی ہے۔

کنسلٹنٹ سائیکیٹرسٹ اور چیئرآف بیہرویرل ہیلتھ کونسل ڈاکٹر ناہیدہ ایاز احمد کا کہنا ہے کہ اسکیٹامائن ایک یونیک طریقہ علاج ہے اور یواےای کے ہسپتال دنیا میں چند ہسپتالوں میں سے ہیں۔ جو یہ طریقہ علاج فراہم کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ ڈپریشن میں مبتلا افراد، یا دیگر کئی نفسیاتی علاج کروانے والے مریض۔ جن پر اور کوئی دوا اثر نہیں کرتی۔ وہ اس طریقہ علاج کے لیے اہل ہوتے ہیں۔ یہ دیگر طریقہ علاج سے مختلف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ناول تھراپی ہے۔ جس میں پہلے رویوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ اور یہ ایک شیڈول وقت کے مطابق آگے بڑھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طریقہ علاج کے شاندار نتائج برآمد ہورہے ہیں۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!