امارات نے ایسا انجکشن بنا لیا کہ کورونا مریض کو ہسپتال میں علاج نہیں کروانا پڑے گا

اماراتی ریاست راس الخیمہ کے ایک ہسپتال نے کورونا سے لڑنے کے لیے ایک ایسی اینٹی باڈی علاج دریافت کر لیا ہے جس کی بدولت کورونا کے مریض کی بیماری کو خطرناک ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس دوا کی بدولت مریض کی بیماری روک دی جائے گی ، جس کے باعث اس کے طبیعت بگڑ جانے پر ہسپتال جانے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔ راس الخیمہ کی جانب سے اس موثر دوا ‘Bamlanivamb’ کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ یہ دراصل ایک انجکشن ہے جو وائرس کی تباہ کاری کا اثر روک دیتا ہے ۔ ٹرائلز کے دوران یہ انجکشن بہت کامیاب ثابت ہوا ہے۔ اب تک کی ریسرچ سے پتا چلا ہے کہ یہ انجکشن لگوانے والے مریضوں کے جسم میں وائرس کی مقدار بہت زیادہ گھٹتی چلی گئی۔

خبر جاری ہے۔۔۔

Bamlanivambکو اماراتی وزارت صحت کی جانب سے بھی منظور کر لیا گیا ہے۔ اس انجکشن کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے بھی کورونا سے متاثرہ ہلکی اور درمیانی علامات والے ان مریضوں کے لیے استعمال میں لایا جا رہا ہے، جن کی بیماری خطرناک ہونے کا اندیشہ پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم اس انجکشن کے لگانے سے بیماری کا زور ٹوٹ گیا اور انہیں ہسپتال لے جانے کی نوبت پیش نہیں آئی۔ اس انجکشن کو خاص طور پر 65 سال سے زائد عمر کے معمر افراد، دائمی امراض کے شکار افرادمثلاً موٹاپے، گردے ، شوگر، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں اور سانس کی بیماری میں مبتلا افرادپر بھی استعمال کیا گیا ہے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلی دوا ہے جو نئے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے خصوصی طور پر بنائی گئی ہے۔ تاہم جو افراد خراب حالت کی وجہ سے ہسپتال داخل ہو چکے ہیں، ان کورونا مریضوں پر یہ دوا استعمال نہیں کی جا رہ ہے۔ نئے طریقہ علاج کے ھوالے سے راس الخیمہ ہاسپٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ژاں مارک گویر نے بتایا ’Bamlanivimabایک خاص قسم کا اینٹی باڈی طریقہ علاج ہے جو کورونا کا اثر ختم کرنے کے لیے Eli Lilly نے دریافت کیا ہے۔ عام طور پر جب کسی مریض کے جسم میں وائرس موجود ہوتا ہے تو اس کا مدافعتی نظام اینٹی باڈی تیار کرتا ہے۔ تاہم اس میں کچھ وقت لگتا ہے اور اس دوران مریض کی حالت زیادہ بگڑنے کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اس دوا میں وہ اینٹی باڈیز شامل ہیں جو کورونا کے صحت یاب مریضوں میں بیماری کے دوران بن گئے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ اینٹی باڈی کسی نئے مریض کے جسم میں انجکشن سے داخل کرنے پر امیونٹی سسٹم زیادہ جلدی طاقتور ہوجاتا ہے۔ اس انجکشن کو لگانے کے لیے ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ تاہم حاملہ خواتین کے لیے یہ انجکشن فی الحال مناسب نہیں ہے۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!