خطرناک بیماری میں مبتلا ننھی بچی کی والدہ کی جذباتی ویڈیو ، شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بچی کی زندگی بچانے کے لیے 80 لاکھ درہم فراہم کر دیئے

متحدہ عرب امارات کے حکمران نہ صرف اپنے عوام بلکہ تارکین کا بھی بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں اور انہیں پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے خزانوں کے منہ کھول دیتے ہیں۔ دُبئی کے فرمانروا اور اماراتی کے وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے ایک بار پھر نیکی کا بڑا قدم اُٹھا کر دُنیا بھر کے دل جیت لیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایک عراقی خاتون کی ایک سالہ بیٹی کسی پیچیدہ بیماری کا شکار ہے۔ اس خاتون نے اس کی زندگی بچانے کے لیے بہترین علاج کی ایک ویڈیو کے ذریعے اپیل کی تھی۔ اس نے یہ ویڈیو شیخ محمد بن راشد المکتوم کو بھی ٹیگ کر دی تھی۔ تاہم اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا کہ دُبئی کے فرمانروا اس کی جذباتی اپیل پر دھیان دیں گے۔ لیکن جب ایسا ہو گیا تو غمزدہ عراقی ماں کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ شیخ محمد نے ننھی بچی کے علاج کے لیے 80 لاکھ درہم مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

خلیج ٹائمز کے مطابق عراقی شہری ابراہیم جابر محمد اور اس کی بیوی مسار منظر 9 فروری کو اپنی ننھی بچی لوین ابراہیم جابرالقطیشی کے ساتھ دُبئی پہنچے تھے۔ ریڑھ کی ہڈی کی ایک بیماری ‘Spinal muscular atrophy’ میں مبتلا اس بچی کی حالت بگڑ گئی ہے۔ تاہم وہ اس اُمید پر یہاں آئے ہیں کہ ان کی بچی کی جان بچا لی جائے گی۔ تاہم جب وہ یہاں پہنچے تو انہیں پتا چلا کہ ان کی بچی کی اس بیماری کے علاج کے لیے 80 لاکھ درہم کی رقم درکار ہو گی۔ جس کے بعد بچی کی ماں مسار حوصلہ ہار بیٹھی اور اس نے شدید ذہنی تناؤ اور جذباتی کیفیت کے زیر اثر ایک ویڈیو بنا کر دُبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم سے بچی کے علاج کے لیے امداد کی اپیل کر دی۔
https://www.instagram.com/tv/CLmWUnLHPlw/?utm_source=ig_embed
اس جذباتی ویڈیو میں وہ اپنی ننھی بچی لوین کو تھامے ہوئے زار و قطار رو کر اس کی زندگی بچانے کے لیے فریاد کرتی رہی۔ ویڈیو پیغام میں اس نے کہا ”اے شیخ محمد بن راشد المکتوم، مجھے اور میری بچی کو آپ کی فیاضی کی فی الفور ضرورت ہے۔ میری بچی کو ایک ایسی انوکھی لاحق ہے جس نے اسے مفلوج کر رکھا ہے۔ ہمارے ملک (عراق) میں اس بیماری کے ماہر ڈاکٹرز اور جدید علاج کی سہولت موجود نہیں ہے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ دُبئی کے الجلیلہ ہسپتال میں اس بیماری کا علاج ممکن ہے۔ تاہم ہم اس بچی کے علاج کے بھاری اخراجات نہیں اٹھا سکتے۔ وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ اس بچی کی بیماری کا علاج اگر دو سال سے پہلے ہو جائے تو ہی اس کی زندگی کو لاحق خطرات کم ہو جائیں گے۔چند ماہ بعد یہ دو سال کی ہو جائے گی۔ اسے زندگی کی جانب لوٹانے کے لیے آپ کی مدد چاہتی ہوں۔ میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ اس بچی کو اپنے ملک کی کم عمر ترین مہمان سمجھیں اور اس ہمدردی اور رحمد لی کا مظاہرہ کریں جس کے لیے متحدہ عرب امارات مشہور ہے۔“

خبر جاری ہے۔۔۔

یہ ویڈیو دس روز پہلے پوسٹ کی گئی تاہم اب اس عراقی جوڑے کی دعا قبول ہو گئی ہے۔ الجلیلہ چلڈرن سپیشئلٹی ہاسپٹل کے ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ شیخ محمد بن راشد نے یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد ہدایات جاری کی ہیں کہ بچی کا علاج کیا جائے جس کے تمام تر اخراجات وہ برداشت کریں گے۔ اگلے چند روز میں اس بچی کا الجلیلہ ہسپتال میں علاج شروع ہو جائے گا۔
Source: Khaleej Times

خبر جاری ہے۔۔۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!