متحدہ عرب امارات: غلط سرجری کرنے پر خاتون کو لاکھوں درہم بطور ہرجانہ ادا کر دیے گئے، اہم خبر پڑھیں

متحدہ عرب امارات میں ایک اماراتی خاتون کو غلط سرجری کیے جانے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس کے ہرجانے کے طور پر انہیں 10 ملین درہم کی رقم ادا کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق دبئی میں ایک نوجوان خاتون کو اس وقت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب ڈاکٹرز کی جانب سے اس کی غلط سرجری کردی گئی۔ جس کے ہرجانے کے طور پر خاتون کو 10 ملین درہم کا ہرجانہ ادا کردیا گیا ہے۔ اماراتی خاتون جن کا نام راودہ المینی ہیں۔ انہوں نے دبئی کی سول عدالت میں ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا۔ جس پر عدالت نے میڈیکل کمپلیکس کے مالک، سرجری کرنے والے ڈاکٹر، انستھیزیا سیپشلسٹ اور ٹیکنیشن کو باہمی طور پر 10 ملین درہم خاتون کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ جس کا مقصد غلط سرجری کا ہرجانہ ادا کرنا ہے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

خاتون کی جانب سے مطالبہ کیاگیا ہے کہ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد جب تک ملزمان ہرجانے کی رقم ادا نہیں کرتے۔ جرمانے پر سالانہ 9 فیصد انٹرسٹ ادا کیا جائے۔ اس کے علاوہ انہیں 1 ہزار درہم وکیل کی فیس کے طور پر بھی ادا کیے جائیں۔ عدالتی ریکارڈ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خاتون نے گزشتہ سال اپریل میں طبی سہولت کے لیے ہسپتال کا دورہ کیا تھا کیونکہ انہیں سانس لینے میں دقت پیش آرہی تھی۔ جس پر سرجری کرنے والے سرجن نے اسے ایک عارضہ بتا کر سرجری کا مشورہ دیا۔ جس پر گزشتہ سال 23 اپریل کو خاتون کی سرجری کردی گئی۔ جس میں صحیح اوزار استعمال ہی نہیں کیے گئے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

یہ رپورٹ سپریم کمیٹی برائے میڈیکل لائیبلٹی کی جانب سے جاری کی گئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سرجری میں شامل تمام افراد قصور وار پائے گئے ہیں۔ اس فیصلے پر گزشتہ سال نومبر میں اماراتی اعلیٰ عدالت نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا اور مانا تھا کہ تمام ملزمان قصوروار ہیں۔ جس پر انہیں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی جس کے بعد انہیں ملک بدر کردیا جائے گا۔ اس کے علاوہ صرف میڈیکل سہولت فراہم کرنے والے مالک کو 3 لاکھ درہم جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!