متحدہ عرب امارات واپسی کے خواہشمند غیرملکی جلدی نہ کریں، جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے احکامات کا انتظار کریں

بہت سے غیرملکی اپنی ملازمت اور اہلخانہ سے دور ہیں اور کچھ کیسز میں ان کے ویزے کی مدت جلد ختم ہونے والی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 16 ممالک میں مقیم ہزاروں غیرملکی امید کررہے ہیں کہ وہ جلد متحدہ عرب امارات میں اپنی ملازمت اور اہلخانہ کے قریب آجائیں گے۔ اس لیے جیسے ہی ٹریول ایجنٹس فضائی ٹکٹس کی فروخت کا آغاز کرتے ہیں تو یہ بہت زیادہ قیمت پر بکنگ کرلیتے ہیں۔ کچھ غیرملکی گزشتہ تین ماہ سے اپنے ملک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسے چھ ساؤتھ افریقی باشندے ہیں جو سفری پابندی کی وجہ سے اپنی ملازمت اور اہلخانہ سے دورہیں۔ اور کچھ کیسز میں غیرملکیوں کے ویزے کی مدت بھی جلد ختم ہونے والی ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان، بنگلہ دیش، کانگو، بھار انڈونیشیا،لائیبیریا، نیمیبیا،نیپال،نائیجیریا، پاکستان، یوگنڈا، سیریا لیون، ساؤتھ افریقہ،سری لنکا، ویتنام اور زیمیبا کے شہریوں کو متحدہ عرب امارات میں داخلے کی تب تک اجازت نہیں ہے۔ جب تک وہ کسی تیسرے ملک میں 14 دن کا قرنطینہ نہ کرلیں۔

متحدہ عرب امارات نے نئے سفری پابندیاں کورونا کی نئی اقسام کو روکنے کےلیے عائد کیں تھیں۔ ابھی تک غیرملکیوں کو امارات میں واپسی کی کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ کچھ غیرملکی خصوصی چارٹرڈ طیاروں میں 25 ہزار درہم تک کی ایک ٹکٹ خرید کر واپس آئے ہیں۔ جب کہ کچھ نے آرمینیا، ازبکستان، سربیا، ایتھوپیا اور قطر میں قرنطینہ کیا ہے۔ جس میں ایک مسافر کو 9 ہزار درہم تک خرچ کرنے پڑے ہیں۔ بھارت سمیت بہت سے ممالک کے غیرملکیوں نے اس وقت سکھ کا سانس لیا تھا جب دبئی کی سپریم کمیٹی آف کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے ویکسی نیشن مکمل کرلینے والے افراد کے لیے آسانیوں کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے بہت سی فضائی کمپنیاں سفر کی تاریخ کا اعلان کررہی ہیں اور پھر اس کی مدت میں توسیع کررہی ہیں۔ اس کے بعد اب ہر ہفتہ ہی بہت سی فضائی کمپنیوں کی جانب سے نئی تاریخ کو سفری پابندی کے خاتمے کی حتمی تاریخ مانا جارہا ہے۔ تاہم اب جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ سفری پابندیاں نئے حکم تک برقرار ہیں۔ اماراتی حکومت صورتحال پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے اور آئندہ حالات کے مطابق نئی ہدایات بھی جاری کرے گی۔

تاہم ابھی تک اس چیز میں کوئی وضاحت نہیں ہوئی ہے کہ جب سفری پابندیاں ختم ہوں گی تو رہائشیوں کو کیسے واپس بلایا جائے گا۔ کیونکہ ابھی تک دنیا کے کئی مقامات پر کورونا کی خطرناک اقسام سر اٹھا رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے بحران ایک نہ ختم ہونے والے بحران کی شکل لیتا جارہا ہے۔ ہزاروں مسافر فضائی کمپنیوں کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی کوئی نئی تاریخ کا اعلان کیا جاتا ہے تو وہ ٹکٹ کی ری بکنگ کروالیتے ہیں۔ جس کے لیے ان سے ٹریول ایجنٹس خطیر رقم حاصل کررہے ہیں۔ دوسری جانب جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی اور نیشنل کرائسز اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ جب تک سفری پابندی کے خاتمے کی حتمی تاریخ نہیں آجاتی۔ ٹکٹ کی بکنگ میں اپنا وقت اور پیسہ ضائع نہ کریں اور نہ ہی اپنے ذہنی سکون کو تباہ کریں۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!