اماراتی ریاست نے حدِ رفتار گھٹا دی،اہم روڈ پر اب گاڑیاں 60کلومیٹر سے زیادہ رفتار نہیں چلیں گی

متحدہ عرب امارات میں حدِ رفتار کو بہت اہمیت دی جاتی ہے جس کا مقصد ٹریفک کے نظام کو بہترین رکھنا اور حادثات میں کمی لانا ہے۔ اب ایک اماراتی ریاست نے حدِ رفتار کے حوالے سے اہم اعلان کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امارات کی ریاست اُم القوین نے ایک اہم روڈ پر حدِ رفتار گھٹا کر 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود کر دی ہے۔ اُم القوین پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شیخ محمد بن زاید روڈ پر Exit 93 (الوطن) پر نیا سپیڈ ریڈار نصب کر دیا گیا ہے۔ اس ایگزٹ روڈ پر نصب نئے سپیڈ ریڈار پر حدِ رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ڈرائیورز کو اس کم حد رفتار کا خصوصی دھیان رکھتے ہوئے بہت احتیاط سے ڈرائیونگ کرنا ہو گی۔ ورنہ ان پر حدِ رفتار کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کر دیا جائے گا۔

خبر جاری ہے۔۔۔

واضح رہے کہ اماراتی ٹریفک اتھارٹیز کی جانب سے فیڈرل نیشنل کونسل (FNC) کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ سپیڈ بفرز کی رعایت قائم رہے گی کیونکہ ہر اماراتی ریاست میں ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں نافذ کیا گیا ہے۔ امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شیخ سیف بن زاید النہیان نے فیڈرل نیشنل کونسل سے کہا ہے کہ ٹریفک اتھارٹیز کی جانب سے مختلف روڈز پر ٹیکنیکل وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے حدِ رفتار مقررہ کی گئی ہیں۔ جن کا مقصد ٹریفک کی روانی قائم رکھنا ہے۔ لوگوں کی زندگیوں کا تحفظ اماراتی حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے۔ شیخ سیف نے یہ بات FNCکے ایک ممبر عدنان الحمادی کے سوال کے جواب میں کہی، جنہوں نے پوچھا تھا کہ امارات بھر میں مختلف روڈز پر حدِ رفتار مختلف کیوں ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے ایمریٹس روڈز کی مثال دی، جس پر راس الخیمہ سے لے کر دُبئی تک حدِ رفتار مختلف رکھی گئی ہے ، جس کی خلاف ورزی پر ڈرائیورز پر جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔

خبر جاری ہے۔۔۔

الحمادی نے یہ بھی کہا کہ کچھ شاہراہوں پر کم از کم حد رفتار (60 کلومیٹر فی گھنٹہ) بہت کم ہے جبکہ کچھ مقامات پر بہت حدِ رفتار بہت زیادہ رکھی گئی ہے۔ اس طرح کی پابندیوں سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔ کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ امارات بھر میں سپیڈبفرز ختم کر دیئے جائیں۔ جن کی بدولت ڈرائیورز کو مقررہ حدِ رفتار سے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ زیادہ رفتار سے گاڑی چلانے کی رعایت ہوتی ہے۔ 2018ء میں ابوظبی نے حدِ رفتار میں رعایت دینے والے یہ سپیڈ بفرز سسٹم ختم کر دیا تھا تاہم دیگر اماراتی ریاستوں میں یہ نظام برقرار ہے۔اس کے جواب میں فیڈرل ٹریفک کونسل کے ڈپٹی چیئرمین بریگیڈیئر حُسین الحارثی نے جواز پیش کیا کہ بہت سارے علاقوں میں حدِ رفتار وہاں پر معاشی سرگرمیوں اور کمرشل ٹرانسپورٹ کو سامنے رکھتے ہوئے عائد کی گئی ہے۔ جیسا کہ دُبئی کی مثال ہے، جہاں پر دیگر ریاستوں کے مقابلے میں گاڑیوں کی گنتی بہت زیادہ ہے۔ جن میں لاریاں بھی شامل ہیں، جو مخصوص لینز کے علاوہ دیگر لین پر بھی چلائی جاتی ہیں۔ امارات بھر کی 48.6 فیصد گاڑیاں ریاست دُبئی کے روڈز پر چلائی جاتی ہیں۔جس کی وجہ سے وہاں پر ٹریفک کے اپنے مسائل ہیں جو دیگر ریاستوں سے سراسر مختلف ہیں۔
Source: Khaleej Times

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!