دبئی؛ 3 کروڑ 20 لاکھ درہم آن لائن اسکینڈل میں 30 رکنی گینگ کو سزا

دھوکہ دہی میں 7 کمپنیاں بھی ملوث، ملزمان کو 96 سال قید پوری کرنے کے بعد ڈی پورٹ کر دیا جائے گا

دبئی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 12 جون 2023ء ) دبئی کی عدالت نے 3 کروڑ 20 لاکھ درہم آن لائن اسکینڈل میں 30 رکنی گینگ کو مجرم قرار دے دیا، دھوکہ دہی میں 7 کمپنیاں بھی ملوث تھیں۔ گلف نیوز کے مطابق دبئی پبلک پراسیکیوشن نے 30 افراد اور 7 کمپنیوں کو منی لانڈرنگ اور 32 ملین درہم آن لائن اسکینڈل چلانے کے الزام میں دبئی کی عدالتوں میں منی لانڈرنگ کورٹ کے حوالے کیا، جس کی بنیاد پر دبئی کی اینٹی منی لانڈرنگ کورٹ نے 30 رکنی گینگ اور 7 کمپنیوں کو افراد اور فرموں کو نشانہ بنانے والے آن لائن اسکینڈل میں منی لانڈرنگ اور 32 ملین درہم غبن کرنے پر مجرم قرار دیا ہے، گینگ کے ارکان کو مجموعی طور پر 96 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جنہیں سزا پوری کرنے کے بعد ملک سے ڈی پورٹ کر دیا جائے گا، عدالت نے ملزمان کو مشترکہ طور پر 32 ملین درہم سے زائد جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم سنایا، عدالت نے جرم میں استعمال ہونے والے کمپیوٹر اور فون ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔
ADVERTISING
بتایا گیا ہے کہ عدالت نے کیس میں ملوث 7 کمپنیوں پر 7 لاکھ درہم کا مجموعی جرمانہ عائد کیا ہے، عدالت جرمانے کی ادائیگی کے لیے مدعا علیہان کے فنڈز یا اثاثے بھی ضبط کر سکتی ہے، اس حوالے سے سینئر ایڈووکیٹ جنرل اور پبلک فنڈز پراسیکیوشن کے سربراہ کونسلر اسماعیل مدنی نے بتایا کہ اس گینگ نے متاثرین کو 1 لاکھ 18 ہزار فشنگ ای میلز بھیج کر بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جھوٹی نقالی کرکے رقم چرائی جن کے ساتھ متاثرین کے کاروباری تعلقات تھے، ان فشنگ ای میلز نے متاثرین سے مدعا علیہان کے کھاتوں میں ادائیگیاں منتقل کرنے کی درخواست کی، بعد ازاں مدعا علیہان نے رقم کیش آؤٹ کی یا اسے دوسرے اکاؤنٹس میں منتقل کیا جب کہ دیگر مدعا علیہان نے فنڈز کے غیر قانونی ذرائع کو چھپانے کے لیے استعمال شدہ کاریں خریدیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

You cannot copy content of this page

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔